
The Quran speaks with profound simplicity and clarity, using vivid parables so that every reader—regardless of background—can grasp its eternal truths . In Verses 26 through 29 of Surah Al-Baqarah, Allah addresses human objections to simple parables, defines the qualities of those who stray versus those who find guidance, and reminds us of our divine origin and ultimate destination .
1. Wisdom in Divine Parables: The Example of the Mosquito (Ayah 26)
"Indeed, Allah is not timid to present an example—that of a mosquito or what is smaller than it..." (Surah Al-Baqarah: 26)
When Allah uses simple examples in the Quran—such as a spider, a fly, or a tiny mosquito—some critics mock these parables, questioning why the Almighty would reference something so seemingly insignificant .
However, these parables highlight profound wisdom :
- The Complexity of Creation: A mosquito, though tiny, is one of the most complex creatures on Earth
. It acts as a major source of biomass, serves as a pollinator, and can even host microscopic parasites on its back . - Testing Hearts: The parable itself serves as a spiritual filter
. Believers recognize the truth and wisdom behind the example, increasing their faith . Disbelievers focus on mocking the imagery while ignoring the core message .
As Allah explains, the same verse can guide many while leaving others to go astray . The difference lies in the heart's intention: those seeking guidance receive it, while those who approach revelation with arrogance miss its light .
2. Characteristics of the Fasiqeen (The Rebellious)
Allah identifies those who drift into misguidance as the Fasiqeen—those who cross boundaries, rebel, and stubbornly disobey . Verses 26–27 outline three key traits of this group :
A. Breaking the Divine Covenant (Ahd)
They break their solemn pledge to Allah . Humanity made a foundational covenant with Allah (Ahd Alast) before entering this earthly life, testifying that He is our Lord (Surah Al-A'raf: 172) . The fasiqeen disregard this innate disposition (fitrah) and break their covenant by following personal desires over divine guidance .
B. Severing What Allah Has Commanded to Be Joined
They cut off essential bonds, including :
- Their spiritual connection with Allah
. - Their obedience and connection to the Messenger ﷺ
. - The bonds between words and actions (speaking without acting)
. - Ties of Kinship (Silat ar-Rahim): Severing relations with family and fellow believers
.
C. Spreading Corruption on Earth
Their spiritual disobedience (intangible corruption) naturally manifests as physical, real-world harm and disorder (tangible corruption), ultimately rendering them true losers in this life and the Next .
3. The Art of Reconnecting Family Ties (Silat ar-Rahim)
Severing family ties is one of the most widespread issues in modern society . Petty disputes over inheritance, non-invitations to social gatherings, in-law misunderstandings, or bruised egos often lead to years of silence between relatives .
"Tit-for-Tat" vs. True Character
A common justification for cutting people off is: "They don't treat me well, so why should I treat them well?" However, Islam teaches us that true character is proactive, not reactive .
- The Prophetic Standard: Prophet Muhammad ﷺ explained that the true upholder of family ties (Al-Wasil) is not the one who merely returns a favor ("tit-for-tat"), but the one who connects with relatives even when those relatives cut them off
. - Overusing Labels: Terminology like "toxic" is frequently misapplied to anyone who disagrees with us
. While necessary safety boundaries must be maintained in cases of actual crime or severe abuse, general family disagreements should be met with patience, forgiveness, and effort to heal .
Blessings of Upholding Family Ties
Reconnecting with family brings immediate rewards in both worlds :
- Extended Life & Expanded Provision: Prophet Muhammad ﷺ stated that maintaining family ties increases wealth and extends one's lifespan
. - Divine Support: When a companion complained that his relatives treated him harshly despite his good treatment of them, the Prophet ﷺ assured him: "Allah will be with you as a supporter as long as you remain like so." (Sahih Muslim)
4. Life, Death, and Creation: Remembering Our Purpose (Verses 28–29)
"How can you disbelieve in Allah when you were lifeless and He brought you to life; then He will cause you to die, then He will bring you [back] to life and then to Him you will be returned?" (Surah Al-Baqarah: 28)
Allah reminds us of the journey of human existence through four distinct stages:
- State of Lifelessness: Before our creation
. - First Life: Our temporary stay in this world
. - Physical Death: The separation of body and soul
. - Resurrection & Final Return: Standing before Allah on the Day of Judgment
.
Earth’s Resources Are Created for You
Ayah 29 emphasizes that Allah created everything on Earth for human benefit (Lakum) . All wholesome things are permissible by default, while only harmful things are prohibited for our protection .
Furthermore, Allah reminds us that He is Al-Aleem—the All-Knowing . Not even an atom's weight in the heavens or on the earth escapes His absolute, continuous knowledge .
Summary Checklist: How to Apply These Verses Today
- Reflect on the Quran with Humility: Approach every verse and parable with an open heart seeking guidance, rather than a critical mind seeking faults
. - Honor Your Commitments: Keep your promises to Allah and fulfill your everyday contracts
. - Initiate Reconciliation: Reach out to a relative you haven't spoken to in a while. Take the high road, forgive past grievances, and seek reward solely from Allah
. - Live with Purpose: Remember that every resource on Earth is a gift, and our journey ultimately leads back to our Creator
.
ہدایت کا حصول اور رشتوں کو جوڑنا
قرآن مجید نہایت سادگی اور وضاحت کے ساتھ بات کرتا ہے، اور بہترین مثالیں پیش کرتا ہے تاکہ ہر پڑھنے والا—خواہ اس کا پس منظر کچھ بھی ہو—اس کی ابدی سچائیوں کو سمجھ سکے ۔ سورۃ البقرہ کی آیات 26 سے 29 میں، اللہ تعالیٰ عام مثالوں پر انسانوں کے اعتراضات کا جواب دیتا ہے، گمراہ ہونے والوں اور ہدایت پانے والوں کی صفات بیان فرماتا ہے، اور ہمیں ہماری پیدائش کے مقصد اور حتمی انجام کی یاد دہانی کرواتا ہے ۔
1. الٰہی مثالوں میں حکمت: مچھر کی مثال (آیت 26)
"بالشبہ اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ کوئی بھی مثال بیان کرے—مچھر کی یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی..." (سورۃ البقرہ: 26)
جب اللہ تعالیٰ قرآن میں مچھر، مکڑی یا مکھی جیسی بظاہر چھوٹی اور معمولی چیزوں کی مثالیں دیتا ہے، تو کچھ معترضین ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کو ایسی معمولی چیزوں کی مثال دینے کی کیا ضرورت تھی ۔
تاہم، ان مثالوں میں بڑی حکمت پوشیدہ ہے :
- تخلیق کی پیچیدگی: ایک مچھر، بظاہر چھوٹا ہونے کے باوجود، زمین کی پیچیدہ ترین مخلوقات میں سے ایک ہے
۔ یہ نہ صرف ماحول کے نظام کا اہم حصہ ہے بلکہ اس کی پیٹھ پر اس سے بھی چھوٹے پرجیوی (parasites) پائے جاتے ہیں ۔ - دلوں کی آزمائش: یہ مثالیں خود ایک روحانی کسوٹی کا کام کرتی ہیں
۔ ایمان والے ان مثالوں کے پیچھے چھپی سچائی اور حکمت کو پہچان لیتے ہیں، جس سے ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے ۔ اس کے برعکس، انکار کرنے والے اصل پیغام کو نظر انداز کر کے صرف مثال کا مضحکہ اڑاتے ہیں ۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ایک ہی آیت سے بہت سے لوگ ہدایت پاتے ہیں اور بہت سے گمراہ ہو جاتے ہیں ۔ فرق صرف انسان کی نیت اور دل کی حالت میں ہے: ہدایت تلاش کرنے والوں کو ہدایت ملتی ہے، جبکہ تکبر سے دیکھنے والے اس کے نور سے محروم رہتے ہیں ۔
2. فاسقین (سرکشوں) کی صفات
اللہ تعالیٰ ہدایت سے محروم ہونے والوں کو فاسقین قرار دیتا ہے—وہ لوگ جو حدود کو توڑتے ہیں، سرکشی کرتے ہیں اور مسلسل نافرمانی کرتے ہیں ۔ آیات 26 اور 27 میں اس گروہ کی تین بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں :
الف) اللہ کے عہد کو توڑنا
وہ اللہ کے ساتھ کیے گئے پختہ عہد کو توڑ دیتے ہیں ۔ انسانیت نے اس دنیا میں آنے سے پہلے اللہ کے ساتھ ایک بنیادی عہد (عہدِ الست) کیا تھا، جہاں سب نے اعتراف کیا تھا کہ وہی ہمارا رب ہے (سورۃ الاعراف: 172) ۔ فاسقین اپنی فطرت کو فراموش کر کے اور الٰہی ہدایت کے مقابلے میں اپنی خواہشات کی پیروی کر کے اس عہد کو توڑ دیتے ہیں ۔
ب) ان رشتوں اور تعلقات کو کاٹنا جنہیں جوڑنے کا حکم دیا گیا
وہ ان تمام تعلقات کو کاٹ دیتے ہیں جنہیں قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جیسے :
- اللہ کے ساتھ اپنا روحانی تعلق
۔ - رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور ان کے ساتھ تعلق
۔ - قول اور فعل کا تعلق (بغیر عمل کے صرف باتیں کرنا)
۔ - صلہ رحمی (رشتہ داری کے تعلقات): اپنے اہل خانہ، رشتہ داروں اور مؤمنین کے ساتھ تعلقات کو توڑنا
۔
ج) زمین میں فساد پھیلانا
ان کی باطنی اور روحانی نافرمانی (معنوی فساد) بالآخر زمین پر عملی اور جسمانی نقصان (حسی فساد) کا باعث بنتی ہے، جس سے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں حقیقی نقصان اٹھانے والے بن جاتے ہیں ۔
3. صلہ رحمی: رشتوں کو جوڑنے کا فن
رشتہ داری اور خاندانی تعلقات کو توڑنا جدید معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے ۔ وراثت کے تنازعات، تقاریب میں دعوت نہ ملنا، سسرالی غلط فہمیاں، یا محض ذاتی انا کی وجہ سے سالہا سال تک رشتہ داروں میں بول چال بند رہتی ہے ۔
"برابری کا بدلہ" بمقابلہ "حقیقی اخلاق"
تعلقات توڑنے کے لیے عام طور پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ: "جب وہ میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے، تو میں ان کے ساتھ اچھا کیوں کروں؟" لیکن اسلام سکھاتا ہے کہ حقیقی اخلاق محض ردِ عمل (reactive) نہیں ہوتا بلکہ خود پہل کرنے والا (proactive) ہوتا ہے ۔
- نبوی معیار: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا (الواصل) وہ نہیں جو صرف احسان کا بدلہ دیتا ہے (برابری کا سلوک کرتا ہے)، بلکہ حقیقی واصل وہ ہے جو کٹنے والے رشتوں کو بھی جوڑتا ہے
۔ - اصطلاحات کا غلط استعمال: آج کل ذرا سے اختلاف پر لوگوں کو "ٹاکسک" (toxic) قرار دے دیا جاتا ہے
۔ اگرچہ شدید ظلم یا جرم کی صورت میں حفاظتی حد بندی ضروری ہے، لیکن عام خاندانی اختلافات کو صبر، درگزر اور اصلاح کی کوشش سے حل کرنا چاہیے ۔
صلہ رحمی کے فوائد و برکات
رشتوں کو جوڑنے سے دنیا اور آخرت دونوں میں فوری برکات حاصل ہوتی ہیں :
- عمر اور رزق میں برکت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صلہ رحمی کرنے سے انسان کے رزق میں کشادگی اور عمر میں برکت ہوتی ہے
۔ - الٰہی مدد: جب ایک صحابی نے شکایت کی کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں لیکن وہ آگے سے برتاؤ خراب کرتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "جب تک تم اس روش پر قائم رہو گے، اللہ کی طرف سے ایک مددگار ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا۔" (صحیح مسلم)
4. زندگی، موت اور تخلیق: مقصدِ حیات کی یاد دہانی (آیات 28–29)
"تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے تو اس نے تمہیں زندگی دی، پھر وہی تمہیں موت دے گا، پھر وہی تمہیں زندہ کرے گا، اور پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے؟" (سورۃ البقرہ: 28)
اللہ تعالیٰ انسان کو اس کے وجود کے چار مراحل یاد دلاتا ہے:
- عدم اور بے جانی کی حالت: ہماری تخلیق سے پہلے کی حالت
۔ - پہلی زندگی: اس دنیا میں ہمارا عارضی قیام
۔ - جسمانی موت: روح اور جسم کی جدائی
۔ - دوبارہ اٹھایا جانا اور حتمی واپسی: قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیشی
۔
زمین کے تمام وسائل انسان کے لیے بنائے گئے ہیں
آیت 29 میں اللہ فرماتا ہے کہ اس نے زمین کی تمام چیزیں انسان کے فائدے کے لیے (لَكُمْ) پیدا کی ہیں ۔ تمام پاکیزہ اور مفید چیزیں بنیادی طور پر حلال ہیں، جبکہ صرف نقصان دہ چیزوں کو ہماری حفاظت کے لیے حرام کیا گیا ہے ۔
مزید برآں، اللہ یاد دلاتا ہے کہ وہی العلیم (سب کچھ جاننے والا) ہے ۔ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر بھی کوئی چیز اس کے کامل اور دائمی علم سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔
عملی نکات: ان آیات سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟
- عاجزی کے ساتھ قرآن پر غور کریں: ہر آیت اور مثال کو ہدایت کی نیت سے پڑھیں، نہ کہ تنقید یا عیب جوئی کے لیے
۔ - عہد کو پورا کریں: اللہ کے ساتھ اپنے ایمان کے عہد اور لوگوں کے ساتھ اپنے وعدوں کو وفا کریں
۔ - رشتوں کو جوڑنے میں پہل کریں: اپنے ان رشتہ داروں سے رابطہ کریں جن سے بول چال بند ہے۔ پرانی باتوں کو معاف کریں اور صرف اللہ کی رضا کے لیے پہل کریں
۔ - مقصد کے ساتھ زندگی گزاریں: یاد رکھیں کہ دنیا کی ہر نعمت ایک امانت ہے، اور ہماری حتمی واپسی ہمارے خالق ہی کی طرف ہے
۔
No comments:
Post a Comment
Please leave your comments for feedback or if you wish to convey a message to others who read this blog.